“The chain of Heaven's highest throne is not so far away; / What can I say? This hand of prayer fails to stretch out properly.”
عرش کی زنجیر سے کوئی خاص دوری نہیں ہے، لیکن کیا کہوں کہ دعا کے لیے میرا ہاتھ ہی ٹھیک طرح سے نہیں اٹھتا۔
شاعر فرماتے ہیں کہ خدا کی رحمت اور اس کا عرش ہم سے ہرگز دور نہیں ہے، بلکہ اس کا در تو بالکل قریب ہے۔ اصل کمی اور کمزوری تو ہمارے اپنے اندر ہے کہ دل کی جھجھک، ندامت یا اخلاص کی کمی کی وجہ سے دعا کے ہاتھ اس تڑپ کے ساتھ نہیں اٹھ پاتے جس کے وہ لائق ہیں۔ یہ شعر بارگاہِ الٰہی سے دوری کا شکوہ نہیں، بلکہ اپنی ہی باطنی کوتاہی اور بے بسی کا ایک دل گداز اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
