چشم موسیٰ لا سکی اک اس کے جلوہ کی نہ تاب چشم دل سے جس کو دیکھا بارہا اچھی طرح

“The eye of Moses could not endure the radiance of a single manifestation, yet through the eye of the heart, I have beheld Him time and again, so clearly.”

— نظم طباطبائی
معنی

حضرت موسیٰ کی آنکھ اس کے ایک جلوے کی تاب بھی نہ لا سکی، جبکہ میں نے اسی ذات کو اپنے دل کی آنکھ سے کئی بار اور خوب اچھی طرح دیکھا ہے۔

تشریح

اس شعر میں کوہِ طور کے اس واقعے کی خوبصورت تلمیح ہے جہاں حضرت موسیٰ الٰہی تجلی کی ایک جھلک بھی نہ سہہ سکے اور بے ہوش ہو گئے۔ شاعر اس کا موازنہ باطنی نگاہ سے کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جو جلوہ ظاہری آنکھ کے بس میں نہ تھا، اسے اس نے اپنی 'چشمِ دل' سے بارہا اور نہایت سکون سے دیکھا ہے۔ دراصل یہ عشق کی اس گہرائی کا بیان ہے جہاں خدا کو باہر کی دنیا میں نہیں، بلکہ اپنے دل کے آئینے میں محسوس کیا جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.