“The cup of life brimmed to the edge, and death arrived at last; / Behold, we rose and departed, leaving the full goblet behind.”
زندگی کا پیالہ جب لبریز ہوا تو موت آ پہنچی، اور دیکھو ہم اس بھرے ہوئے پیمانے کو چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔
اس شعر میں شاعر نے زندگی کو ایک چھلکتے ہوئے جام اور موت کو ایک ناگزیر سچائی کے روپ میں پیش کیا ہے۔ عام خیال کے برعکس کہ پیمانہ خالی ہونے پر زندگی ختم ہوتی ہے، یہاں عمر کا جام لبریز ہونا بتاتا ہے کہ سانسوں کا مقررہ وقت پورا ہو گیا۔ یہ کتنا گہرا اور اداس کر دینے والا پہلو ہے کہ دنیا کی محفل اور اس کے لطف کا پیالہ ابھی بھرا ہی ہوا تھا کہ بلاوا آ گیا اور انسان کو سب کچھ ادھورا چھوڑ کر رخصت ہونا پڑا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
