“We lie trampled beneath the feet of that ancient hag, the world, ever since all manly courage abandoned us and fled.”
جب سے مردانہ ہمت ہمارا ساتھ چھوڑ کر گئی ہے، تب سے ہم اس بوڑھی دنیا کی ٹھوکروں میں پڑے ہوئے ہیں۔
اردو شاعری میں دنیا کو اکثر ایک مکار اور بے رحم بوڑھی عورت (پیرِ زال) سے تشبیہ دی جاتی ہے، اور شاعر یہاں اسی کے ہاتھوں اپنی بے بسی کا رونا رو رہا ہے۔ شعر کا اصل نکتہ یہ ہے کہ زمانہ ہمیں ٹھوکروں میں تبھی رکھتا ہے جب ہم خود اپنے اندر کی خودداری، جرات اور حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ دراصل ہمت ٹوٹ جانے کا ایک دردناک اعتراف ہے، کیونکہ جب انسان کا باطنی عزم رخصت ہو جائے تو دنیا اسے پاؤں تلے روند ڈالتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
