“Set not your heart on far-reaching hopes, for the guests of this gathering will depart, leaving this tale unfinished behind.”
لمبی امیدوں اور خواہشوں پر دل مت لگانا، کیونکہ اس محفل کے لوگ یہ قصہ ادھورا چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
یہ شعر ہمیں طویل تمناؤں اور لامتناہی آرزوؤں کی بے ثباتی کا بڑا ہی دلنشیں احساس دلاتا ہے۔ شاعر نے اس دنیا کو ایک محفل سے تشبیہ دی ہے، جہاں آنے والے تمام لوگ چاہے کتنے ہی پُرعزم کیوں نہ ہوں، اپنا فسانہ ادھورا چھوڑ کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ یہ شعر دراصل ہمیں زندگی کی ناپائیداری کو سمجھتے ہوئے عاجزی اور سادگی سے جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
