افعی نہیں کھلی ہوئی زلفوں کا عکس ہے جاتے کہاں ہو آئینہ و شانہ چھوڑ کر

“'Tis no serpent, merely the reflection of tresses unconfined; Where do you flee, leaving the mirror and comb behind?”

— نظم طباطبائی
معنی

یہ کوئی زہریلا سانپ نہیں بلکہ کھلی ہوئی زلفوں کا عکس ہے؛ تم آئینہ اور کنگھی چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟

تشریح

اس شعر میں شاعر نے محبوب کی لہراتی ہوئی سیاہ زلفوں کی خوبصورتی کو بڑے دلکش اور شوخ انداز میں پیش کیا ہے۔ آئینے میں بکھرے ہوئے بالوں کا عکس دیکھ کر کوئی انہیں خطرناک زہریلا سانپ سمجھ بیٹھا اور گھبرا کر آئینہ اور کنگھی چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ یہاں زلفوں کے جادوئی حسن اور ان کے پراسرار خوف کو نہایت خوبصورت اور پُرلُطف تشبیہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.