“Even today upon my lips lingers the delight of that night of bliss: forsaking the rim of the wineglass, I kissed the cupbearer's lips.”
اس عیش کی رات کا مزہ آج تک میرے ہونٹوں پر قائم ہے، کیونکہ میں نے شراب کے پیالے کے کنارے کو چھوڑ کر ساقی کے ہونٹوں کو چوما تھا۔
شاعر اس مسرت بھری رات کے نشے کو یاد کر رہا ہے جس کا لطف اور مٹھاس آج تک اس کے ہونٹوں پر تر و تازہ ہے۔ اس نے پیمانے کے کنارے سے جام پینے کے بجائے براہِ راست ساقی کے لبوں کا بوسہ لیا، یعنی واسطے کو چھوڑ کر حسن اور اصل سرچشمے کو تھام لیا۔ یہ شعر محض رندی اور سرور کا قصہ نہیں، بلکہ ظاہری چیزوں کو ترک کر کے محبت کی اصل حقیقت میں گم ہو جانے کی خوبصورت تصویر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
