“Once death arrives, no one remains to share one's tragic plight; even the moth abandons the extinguished candle to the night.”
مرنے کے بعد کوئی ساتھ دینے والا باقی نہیں رہتا، یہاں تک کہ پروانہ بھی بجھی ہوئی شمع کو اکیلا چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
شمع اور پروانے کے تعلق کو اردو شاعری میں بے پناہ محبت کا استعارہ مانا جاتا ہے، مگر یہاں شاعر نے ایک نہایت درد ناک حقیقت پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ پروانہ شمع پر نثار ہونے تبھی تک آتا ہے جب تک اس کی لو جلتی رہتی ہے؛ جیسے ہی شمع بجھتی ہے، پروانہ بھی اسے اندھیرے میں اکیلا چھوڑ جاتا ہے۔ یہ شعر ہمیں احساس دلاتا ہے کہ زندگی میں چاہے کتنے ہی چاہنے والے ہوں، موت ایک ایسا سفر ہے جہاں ہر انسان کو اپنی تنہائی کا بوجھ اکیلے ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
