احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر رستہ بھی چل تو سبزۂ بیگانہ چھوڑ کر

“Accept no favor, casting your manly pride aside; / Walk on your path, yet leave the stranger's greens untrod.”

— نظم طباطبائی
معنی

اپنی مردانہ ہمت اور غیرت چھوڑ کر کسی کا احسان مت لو، اور راستے پر بھی چلو تو کسی غیر کے سبزے سے بچ کر چلو۔

تشریح

یہ شعر غیرت، خودداری اور استقامت کا ایک شاندار درس ہے۔ شاعر نے راہ چلتے مسافر کے سامنے کسی غیر کے سرسبز چمن کا خوبصورت استعارہ باندھا ہے، جس سے مراد وہ سہولت اور راحت ہے جو انسان کو کسی کا احسان مند بنا دیتی ہے۔ شاعر کا ماننا ہے کہ مشکلات کے تپتے ہوئے راستے پر چلنا منظور ہو، مگر اپنی مردانہ ہمت اور وقار کو گنوا کر کسی غیر کے سائے میں سستانا گوارا نہ ہو۔ سچی عزت اسی میں ہے کہ انسان اپنے دم پر جئے اور سر اٹھا کر چلے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 15Next →