“The tavern's revellers, too, await you, O Khizr; leave the desolate wilderness behind for once, and come visit the town.”
اے خضر، مے خانے کے رند بھی آپ کے منتظر ہیں، کبھی ویرانے کو چھوڑ کر بستی میں بھی آئیے۔
روایت میں حضرت خضر کو ویرانوں اور بیابانوں میں بھٹکے ہوؤں کا رہنما مانا جاتا ہے، مگر یہاں شاعر بڑی بے تکلفی سے انہیں مے خانے کی بستی میں آنے کی دعوت دے رہا ہے۔ رند اور مے کش یہ یاد دلا رہے ہیں کہ روحانی رہنمائی اور جستجو کی پیاس صرف تنہائی میں بھٹکنے والوں کا حصہ نہیں، بلکہ زندگی کے ہنگاموں میں الجھے عام عاشقوں کو بھی ایک رہبر کی ضرورت ہے۔ یہ شعر دراصل اس خیال کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے کہ فیض اور محبت کو ویرانوں تک محدود رہنے کے بجائے عام انسانوں کی بستیوں میں بھی قدم رکھنا چاہیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
