بندہ ہوں ترا زبان شیریں
دنیا ممنون ہو گئی ہے
“I am your devoted servant, O sweet-tongued one; the whole world stands beholden to your grace.”
— نظم طباطبائی
معنی
اے میٹھی زبان والے، میں تیرا غلام ہوں اور ساری دنیا تیری احسان مند ہو گئی ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کے میٹھے اور دلنشیں اندازِ گفتگو پر اپنی والہانہ عقیدت اور نیازمندی کا اظہار کر رہا ہے۔ ’زبانِ شیریں‘ کا سحر ایسا عالمگیر ہے کہ صرف عاشق ہی نہیں بلکہ سارا زمانہ اس کی حلاوت کا شکر گزار اور گرویدہ ہو گیا ہے۔ یہ شیریں بیانی کی وہ خوبصورت تعریف ہے جو دلوں کو فتح کر کے ہر کسی کو اپنا معترف بنا لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
