“In this dark night of sorrow, O Haidar, sudden death / Has become an auspicious omen of celebration.”
حیدر کہتے ہیں کہ غم کی اس رات میں اچانک آنے والی موت اب خوشی اور جشن کا مبارک شگون بن گئی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے رنج و الم کی اس انتہا کو بیان کیا ہے جہاں دکھ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ غمِ ہجر کی اندھیری رات اتنی طویل اور جاں گسل ہے کہ اس میں اچانک آنے والی موت بھی کسی خوف کے بجائے ایک خوش آئند شگون اور جشن کی نوید معلوم ہوتی ہے۔ جب حیات عذاب بن جائے تو موت ڈرانے کے بجائے دل کو نجات اور مسرت کا احساس بخشتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
