“The preacher cast such a baleful gaze, The wine turned to blood within the glass.”
واعظ نے ایسی بری نظر سے دیکھا کہ بوتل کے اندر موجود شراب خون میں تبدیل ہو گئی۔
اس شعر میں شاعر نے واعظ کی بے رحم نگاہ اور اس کی خشک پارسائی پر بڑا لطیف طنز کیا ہے۔ واعظ کی نظر میں اتنی تندی اور حسد ہے کہ صراحی میں چھلکی ہوئی معصوم شراب بھی خوف کے مارے خون میں بدل گئی۔ اردو روایت میں مے سچی محبت، بے فکری اور آزادیِ روح کی علامت ہے، جبکہ واعظ محض ظاہر پرستی کی۔ شاعر بڑی خوبصورتی سے سمجھا رہے ہیں کہ منفی اور تند نگاہیں کس طرح ہر مسرت اور حسن کا رنگ چھین کر اسے برباد کر دیتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
