وحشت کا تھا نام اول اول اب تو وہ جنون ہو گئی ہے

“At first it went by the name of a wild unrest, / but now it has turned into an all-consuming madness.”

— نظم طباطبائی
معنی

شروع شروع میں تو اس کیفیت کا نام محض وحشت تھا، لیکن اب یہ شدت اختیار کر کے جنون اور دیوانگی بن چکی ہے۔

تشریح

یہ شعر محبت کی شدت اور اس کے اندرونی ارتقا کو نہایت دلکش انداز میں بیان کرتا ہے۔ آغاز میں دل پر جو کیفیت محض بے چینی اور ویرانی کا گمان تھی، وہ رفتہ رفتہ پختہ ہو کر ایک مکمل دیوانگی اور جنون کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ شاعر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ عشق جب پروان چڑھتا ہے تو محض ایک عارضی احساس نہیں رہتا، بلکہ انسان کے پورے وجود پر قابض ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.