“What praise can be sung of your prayer, O ascetic! / It has turned into a pillar upholding the sky.”
اے زاہد، تیری دعا کی کیا ہی بات ہے! وہ آسمان کو سنبھالنے والا ستون بن گئی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے زاہد پر بڑی پرلطف اور گہری چوٹ کی ہے۔ بظاہر تو وہ زاہد کی دعا کی تعریف کر رہا ہے کہ وہ اتنی بلند ہوئی کہ آسمان کو سنبھالنے والا ستون بن گئی، مگر درحقیقت یہ ایک کاٹ دار طنز ہے۔ اس تصویر کشی کا اصل حسن یہ ہے کہ زاہد کی دعا میں عاجزی اور سوز کے بجائے اتنی سختی اور اکڑ ہے کہ وہ رحمت بن کر برسنے کے بجائے ایک بے جان کھمبے کی طرح تنی کھڑی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
