بدعت مسنون ہو گئی ہے
امت مطعون ہو گئی ہے
“Heresy has been sanctified as tradition now, and the community of faith is cursed and reviled somehow.”
— نظم طباطبائی
معنی
بدعت کو سنت کا درجہ دے دیا گیا ہے اور پوری امت رسوا اور طعنوں کا شکار ہو چکی ہے۔
تشریح
یہ شعر قوم کے فکری اور روحانی زوال پر ایک دل سوز نوحہ ہے۔ شاعر بڑے دکھ سے کہتے ہیں کہ دین اور سماج میں جو غلط اور خود ساختہ رسومات تھیں، انہیں وقت کے ساتھ سنت اور تقدس کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اس کھوکھلے پن کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم اپنی اصل روح کھو بیٹھی اور دنیا کے سامنے رسوا، طعنہ زن اور بے توقیر ہو کر رہ گئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
1 / 9Next →
