“Let Death remain waiting in ambush, leave her be; she has grown utterly enamored with me.”
اگر موت گھات لگائے بیٹھی ہے تو اسے رہنے دو، وہ مجھ پر فدا ہو گئی ہے۔
اس شعر میں شاعر نے موت یعنی اجل کو کسی ہیبت ناک سائے کے بجائے ایک عاشقِ زار کی صورت میں دیکھا ہے۔ وہ مسکرا کر کہتے ہیں کہ جو اجل گھات لگائے بیٹھی ہے اسے رہنے دو، دراصل وہ مجھ پر دل و جان سے فدا ہو چکی ہے اور میرا پیچھا نہیں چھوڑنا چاہتی۔ فنا کے خوف کو یوں بے ساختہ محبت کے روپ میں ڈھال لینا نہ صرف کمال کی شوخی ہے، بلکہ انسانی انجام کے ساتھ ایک پُراسرار اپنائیت بھی قائم کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
