جو قبرین اُنکی اُکھڑی تو دیکھا — نظیر اکبرآبادی
“When their graves were uprooted and we looked within, No limb of body remained, nor a single thread of the shroud.”
معنی
جب اُن کی قبریں اکھاڑی گئیں تو دیکھا کہ نہ بدن کا کوئی عضو باقی تھا اور نہ کفن کا ایک دھاگا۔
تشریح
اِس شعر میں شاعر موت کی اُس آخری اور عاجز کر دینے والی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں وقت ہر شے کو مٹا دیتا ہے۔ جب پرانی قبریں اُکھڑیں تو نہ جسم کا کوئی عضو باقی تھا اور نہ کفن کا کوئی تار — گویا انسان کی ساری شان و شوکت آخرکار خاک میں مل جاتی ہے۔ یہ منظر ہمیں اپنی فنا اور اِس عارضی دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلاتا ہے کہ آخر میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
