نظیرؔ آگے ہمکو ہوس تھی کفن کی — نظیر اکبرآبادی

نظیرؔ آگے ہمکو ہوس تھی کفن کی جو سوچا تو ناحق کا دیوانہ پن تھا

“Nazeer, before this we had longed only for a shroud; but when we thought it through, it was mere senseless madness.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

نظیرؔ، پہلے ہمیں کفن کی خواہش تھی؛ مگر جب سوچا تو یہ بے کار کا دیوانہ پن ہی تھا۔

تشریح

یہاں نظیرؔ اُن دنوں کو یاد کرتے ہیں جب اُنہیں صرف کفن کی ہی ہوس تھی — یعنی موت اور فنا کی ایک دیوانہ وار آرزو۔ مگر جب ٹھہر کر سوچا تو سمجھ آیا کہ وہ تو ایک بے معنی، ناحق پاگل پن تھا۔ اِس میں ایک گہری بات پوشیدہ ہے کہ جوانی یا عشق کے جوش میں ہم موت کو رومانوی بنا لیتے ہیں، مگر عقل کی روشنی میں وہی جنون کھوکھلا دکھائی دینے لگتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.