تنِ مردہ کو کیا تکلف سے رکھتا — نظیر اکبرآبادی

تنِ مردہ کو کیا تکلف سے رکھتا گیا وہ تو جس سے مزین یہ تن تھا

“Why should I adorn this corpse of a body with such care? Gone is the one by whom this body was ever made fair.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

اس مردہ جسم کو اتنے تکلف سے رکھنے کی کیا ضرورت، جب وہ چلا ہی گیا جس سے یہ جسم مزین اور خوبصورت تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے جسم کو ایک مردہ لاش کی طرح دیکھتا ہے جسے اب سنوارنے یا تکلف سے سجانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس بے جان تن کو آراستہ کرنے سے کیا حاصل، جب وہی چلا گیا جس کے دم سے یہ بدن مزین اور خوبصورت لگتا تھا۔ یہاں محبوب کا جانا محض جدائی نہیں بلکہ زندگی اور رونق کا اٹھ جانا ہے — عاشق اب صرف ایک خالی ڈھانچہ رہ گیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.