یہ غنچہ جو بے درد گلچین نے توڑا — نظیر اکبرآبادی

یہ غنچہ جو بے درد گلچین نے توڑا خدا جانے کسکا یہ نقشِ دہن تھا

“This bud that the heartless flower-picker has plucked— God alone knows whose lips' lovely imprint it was.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

یہ کلی جسے بے رحم گل چیں نے توڑ ڈالا، خدا جانے یہ کس کے لبوں کا نقش تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک نازک کلی کا ماتم کرتا ہے جسے ایک بے رحم گلچیں نے توڑ ڈالا، اور اس کی نازک ساخت کو کسی محبوب کے ہونٹوں کے خوبصورت نقش سے تشبیہ دیتا ہے۔ یہاں ایک دل کو چھو لینے والی نرمی ہے — کلی اُس حسین زندگی کی علامت بن جاتی ہے جو پوری طرح کھلنے سے پہلے ہی مسل دی گئی۔ اس منظر کے پیچھے فنا کا نوحہ چھپا ہے: کتنی ہی قیمتی اور خوبصورت جانیں قسمت کے بے درد ہاتھوں وقت سے پہلے توڑ لی جاتی ہیں، اور ان کا اصل حسن کوئی جان بھی نہیں پاتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.