گیا مین جو اُس بن چمن مین تو ہر گل — نظیر اکبرآبادی
“When I went to that garden without her, then every rose was, in that moment, a glowing ember upon my robe to me”
معنی
جب میں اُس کے بغیر باغ میں گیا، تو اُس وقت ہر پھول مجھے اپنے لباس پر دہکتا ہوا انگارہ محسوس ہوا۔
تشریح
شاعر کہتا ہے کہ جب وہ اپنی محبوبہ کے بغیر چمن میں گیا تو ہر کھلتا ہوا گل اُسے کسی سلگتے انگارے جیسا لگا جو اُس کے پیراہن پر آ گرا ہو۔ جو گلاب کبھی حُسن اور خوشی کی علامت تھے، اب فراق میں وہی سُرخی آگ بن کر دل کو جلاتی ہے۔ یہ خوبصورت استعارہ بتاتا ہے کہ دنیا کی ساری رعنائی تب ہی دل کو بھاتی ہے جب محبوب پاس ہو—اُس کے بغیر تو وہی رنگ شعلہ بن کر سینے کو داغ دیتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
