وہ رشکِ چمن کل جو زیبِ چمن تھا — نظیر اکبرآبادی
“That envy of the garden, who yesterday was the garden's adornment— the garden, through the trembling of its boughs, was beating its breast in grief.”
معنی
وہ جو کل باغ کی زینت اور خود باغ کے لیے بھی قابلِ رشک تھا، اُس کے غم میں باغ اپنی شاخوں کی جنبش سے سینہ کوبی کر رہا تھا۔
تشریح
ذرا اس تصویر کی نفاست دیکھیے — جو کل تک باغ کی زینت اور آبرو تھا، وہی آج باغ کے لیے رشک اور ماتم کا سبب بن گیا۔ جب وہ محبوب نہ رہا تو باغ نے بھی غم منایا — شاخوں کی جنبش ایسی لگی جیسے وہ سینہ کوبی کر رہا ہو۔ شاعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی عزیز کا بچھڑنا ساری کائنات کو سوگوار کر دیتا ہے، یہاں تک کہ باغ بھی اپنے پیارے کے لیے روتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
