کہا کہ عرض کرین ہم پہ جو گذرتا ہے — نظیر اکبرآبادی
“I said, let me lay before you all that I endure— You said, I know it all already; why move your tongue at all?”
معنی
میں نے کہا کہ جو کچھ مجھ پر گزرتی ہے وہ آپ کے سامنے پیش کروں، تو آپ نے کہا کہ مجھے تو سب خبر ہے، پھر تم کیوں زبان ہلاتے ہو۔
تشریح
اس شعر میں ایک پیاری سی نوک جھونک ہے — عاشق چاہتا ہے کہ اپنے دل کا حال، اپنی تکلیف بیان کرے، مگر محبوب ٹال دیتا ہے کہ مجھے تو سب پہلے سے معلوم ہے، پھر زبان ہلانے کی کیا ضرورت؟ اس جواب میں ایک طرف بے رخی چھپی ہے تو دوسری طرف ایک گہری قربت بھی، جیسے محبوب بن کہے دل کی ہر بات سمجھتا ہو۔ یہاں 'زبان ہلانا' الفاظ کی بے بسی کی طرف اشارہ ہے، کہ اصل درد تو لفظوں سے پرے ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
