کہا جتاتے ہو کیون ہمکو روز ناز و ادا — نظیر اکبرآبادی
“I said: why do you flaunt your charms and graces to me each day? You said: but you too show the love you bear for me, in your own way.”
معنی
میں نے کہا کہ تم مجھ پر روز اپنے ناز و ادا کیوں جتاتے ہو؟ تم نے کہا کہ تم بھی تو اپنی چاہت مجھے جتاتے ہو۔
تشریح
اس شعر میں ایک پیاری سی نوک جھونک ہے — عاشق شکایت کرتا ہے کہ تم روز اپنے ناز و ادا کیوں دکھاتے ہو، اور محبوب بڑی چالاکی سے جواب دیتا ہے کہ تم بھی تو اپنی چاہت جتاتے رہتے ہو۔ یہاں 'جتانا' دونوں طرف چلتا ہے — ایک کا ناز دکھانا اور دوسرے کا محبت ظاہر کرنا، دراصل دونوں عشق ہی کی دو صورتیں ہیں۔ لطف اس بات میں ہے کہ شکایت خود ایک طرح کا اقرار بن جاتی ہے، اور عشق کا یہی نازک کھیل اس شعر کو اتنا دلکش بناتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
