کہا جو حالِ دل اپنا تو اُس نے ہنس ہنس کر — نظیر اکبرآبادی

کہا جو حالِ دل اپنا تو اُس نے ہنس ہنس کر کہا غلط ہو یہ باتین جو تم بناتے ہو

“When I confessed to her the state of my own heart, she laughed and laughed and said, 'All false—these tales are mere inventions that you spin.'”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

جب میں نے اُس سے اپنے دل کا حال کہا تو وہ ہنس ہنس کر بولی کہ یہ سب جھوٹ ہے، یہ باتیں تم بنا رہے ہو۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے دل کا حال سچائی سے بیان کرتا ہے، مگر محبوبہ اُسے سنجیدگی سے لینے کے بجائے ہنس ہنس کر ٹال دیتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو تم گھڑتے ہو۔ اُس کی ہنسی میں ایک نازک ادا بھی ہے اور بے رُخی بھی — گویا وہ جان بوجھ کر انجان بن رہی ہے۔ یہ محبت کا وہ میٹھا درد ہے جہاں سچے جذبے کو بھی 'بہانہ' کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے، اور عاشق اِس انکار میں بھی ایک عجیب سی لذت پاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.