کہا لڑاتے ہو کیون ہمسے غیر کو ہمدم — نظیر اکبرآبادی

کہا لڑاتے ہو کیون ہمسے غیر کو ہمدم کہا کہ تم بھی تو ہمسے نگہ لڑاتے ہو

“I said, why pit a rival against me, O my dear companion? You said, but you too lock your gaze in combat with mine.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

میں نے کہا کہ اے ہمدم، تم مجھ سے غیر کو کیوں لڑاتے ہو؟ تم نے کہا کہ تم بھی تو مجھ سے اپنی نگاہ لڑاتے ہو۔

تشریح

اس شعر میں محبت بھری نوک جھونک چھپی ہے۔ عاشق شکایت کرتا ہے کہ محبوب اس کے خلاف رقیب کو کیوں کھڑا کرتا ہے، تو محبوب شوخی سے جواب دیتا ہے کہ تم بھی تو اپنی نگاہوں سے مجھ سے لڑائی مول لیتے ہو۔ یہاں لفظ 'لڑانا' کا دوہرا لطف ہے ایک طرف دشمنی کرانا اور دوسری طرف نظروں کا ٹکرانا یعنی عاشقانہ چتون۔ یوں جھگڑے کی بات عشق کی ادا اور شوخی میں ڈھل جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.