کہا جو ہنستے ہمیں در سے کیون اُٹھاتے ہو — نظیر اکبرآبادی

کہا جو ہنستے ہمیں در سے کیون اُٹھاتے ہو کہا کہ اس لیے تم یان جو غل مچاتے ہو

“I said, why laughing do you turn me away from your door? You said, because it's here you raise so loud an uproar.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

میں نے پوچھا کہ ہنستے ہوئے تم مجھے اپنے در سے کیوں اٹھاتے ہو؟ تم نے کہا کہ اس لیے، کیونکہ تم یہاں اتنا شور مچاتے ہو۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اور معشوق کے درمیان ایک پیاری سی چھیڑ چھاڑ چھپی ہے۔ عاشق شکایت کرتا ہے کہ تم ہنستے ہوئے مجھے اپنے در سے کیوں اُٹھا دیتے ہو، اور معشوق کا شوخ جواب آتا ہے کہ اسی لیے، کیونکہ تم یہاں آ کر اتنا غل مچاتے ہو۔ اس ہلکی پھلکی گفتگو میں عشق کی وہ بے تابی جھلکتی ہے جو عاشق کو خاموش نہیں رہنے دیتی، اور معشوق کی وہ ادا جو ٹھکرانے میں بھی ایک ناز لیے ہوئے ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.