مُکھ زرد بدن خشک جگر چاک الم ناک — نظیر اکبرآبادی

مُکھ زرد بدن خشک جگر چاک الم ناک غل شور تپش نالہ و افغان تماشا

“The face gone pale, the body parched, the liver cleft and steeped in woe— Uproar and clamor, fever's heat, the wails and sobs become a spectacle.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

چہرہ زرد پڑ گیا، بدن خشک ہو گیا، جگر چاک اور غم سے بھرا ہوا ہے؛ شور و غل، تپش، آہیں اور فغاں—یہ سب ایک تماشا بن گیا ہے۔

تشریح

یہ شعر ایک عاشق کی بے بسی کی زندہ تصویر کھینچتا ہے — زرد چہرہ، سوکھا بدن، اور غم میں چور چاک جگر۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق کا درد اب اندر ہی نہیں رہا، بلکہ شور، تپش اور نالہ و فغاں بن کر ایک تماشا بن گیا ہے جسے ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ گہرائی میں یہ بات ہے کہ سچا عشق چھپائے نہیں چھپتا — وہ عاشق کے پورے وجود اور ہر آہ پر عیاں ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.