ہم پست نگاہوں کی نظر میں تو نظیرؔ آہ — نظیر اکبرآبادی

ہم پست نگاہوں کی نظر میں تو نظیرؔ آہ سب ارض و سما کی ہو گلستان تماشا

“To us, the ones with downcast eyes, O Nazeer, behold — all earth and sky became one garden's spectacle unrolled.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

ہم پست نگاہ والوں کی نظر میں، اے نظیرؔ، ساری زمین و آسمان ایک گلستان کا تماشا بن گئے۔

تشریح

نظیرؔ یہاں ایک پیاری سی عاجزی کے ساتھ خود کو 'پست نگاہوں' میں شمار کرتے ہیں — یعنی جھکی ہوئی، منکسر اور سادہ نظر والے لوگ۔ مگر کمال یہ ہے کہ اسی عاجز اور نیچی نگاہ میں ساری ارض و سما ایک کھلے ہوئے گلستان کی طرح تماشا بن کر نظر آتے ہیں۔ گہرے مفہوم میں یہ کہتا ہے کہ اصل حُسن دیکھنے کے لیے غرور نہیں بلکہ عاجز اور شکرگزار نگاہ درکار ہے — جو جھک کر دیکھتا ہے، اُسی کو پوری کائنات ایک باغ دکھائی دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.