جب حسن کے جاتی ہے مرقع پہ نظر آہ — نظیر اکبرآبادی

جب حسن کے جاتی ہے مرقع پہ نظر آہ کیا کیا نظر آتا ہو ہر اک آن تماشا

“When the gaze falls upon the album of beauty, ah, what wonders upon wonders appear in every passing moment, a spectacle.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

جب حُسن کے مرقع پر نظر جاتی ہے، آہ، تو ہر ایک لمحے میں کیا کیا تماشے نظر آتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر حسن کو ایک مرقع، یعنی تصویروں کے البم کی مانند دیکھتا ہے، اور جب نظر اُس کے اوراق پر پڑتی ہے تو ہر گزرتے لمحے میں ایک نیا نظارہ، ایک نیا تماشا سامنے آتا ہے۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ سچا حسن کبھی ٹھہرا ہوا یا ختم ہونے والا نہیں، وہ ہر آن اپنا نیا رنگ دکھاتا ہے۔ وہ چھوٹی سی 'آہ' دیکھنے والے کی بے بس حیرت کو سمیٹ لیتی ہے، جو اس لازوال خوبصورتی پر مبہوت کھڑا رہ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.