جنات پری دیو ملک حور بھی نادر — نظیر اکبرآبادی
“Jinns, fairies, angels, demons, houris too are rare and few, If humans are a wonder, then the beasts a spectacle to view.”
معنی
جنات، پریاں، دیو، فرشتے اور حوریں سب نایاب اور کمیاب ہیں؛ اگر انسان عجوبہ ہے تو حیوان تماشا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ساری کائنات کو ایک حیرت کدے کی طرح دیکھتا ہے۔ جنات، پریاں، دیو، فرشتے اور حوریں سب نادر اور انوکھی چیزیں ہیں، مگر شاعر کہتا ہے کہ اصل عجوبہ تو انسان ہے اور حیوان ایک تماشا ہے۔ گہری بات یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر تخلیق اپنے اندر حیرت و استعجاب رکھتی ہے، مگر انسان اپنی عقل اور جذبات کے سبب سب سے بڑا کرشمہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
