افلاک پہ تاروں کی چمکتی ہو طلسمات — نظیر اکبرآبادی

افلاک پہ تاروں کی چمکتی ہو طلسمات اور روئے زمین پر گل و ریحان تماشا

“In the skies the stars shimmer like a spell of enchantment, and on the face of the earth, flowers and sweet basil make their show.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

آسمانوں پر ستاروں کی طلسماتی چمک دمکتی ہے، اور روئے زمین پر گل و ریحان اپنا تماشا دکھاتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر آسمان اور زمین دونوں کو ایک جادوئی تماشے کی طرح دیکھتا ہے۔ اوپر ستارے کسی طلسم کی مانند جھلملا رہے ہیں، اور نیچے گل و ریحان اپنی خوشبو اور رنگ بکھیر رہے ہیں۔ گویا پوری کائنات ایک سجی ہوئی محفل ہے، جہاں اوپر اور نیچے کی ہر شے اپنے ہونے کا جشن منا رہی ہو۔ یہ خدا کی خوبصورت کاریگری پر حیرت اور شکر کا احساس ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.