لے عرش سے تا فرش نئے رنگ نئے ڈھنگ — نظیر اکبرآبادی
“From heaven's heights down to the earthen floor, new hues, new ways unfold; Each form a marvel to behold, each splendor a spectacle to behold.”
معنی
عرش کی بلندیوں سے لے کر فرش کی سطح تک ہر جگہ نئے نئے رنگ اور نئے نئے ڈھنگ ہیں۔ ہر شکل ایک عجوبہ ہے اور ہر شان ایک تماشا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر پوری کائنات کو ایک رنگین تماشے کی صورت دیکھتا ہے — عرش کی بلندیوں سے لے کر فرش کی پستی تک ہر طرف نئے رنگ اور نئے ڈھنگ بکھرے پڑے ہیں۔ ہر شکل کسی عجوبے جیسی ہے اور ہر شان ایک نظارہ ہے، گویا خالق کی صناعی ہر ذرے میں اپنا کرشمہ دکھا رہی ہے۔ یہ دنیا کی حیرت انگیز خوبصورتی اور رنگا رنگی کے سامنے ایک ہلکا سا سجدۂ حیرت ہے، جہاں دیکھنے والی آنکھ ہر شے میں ایک معجزہ پا لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
