ہو کیوں نہ ترے کام میں حیران تماشا — نظیر اکبرآبادی
“Why should I not stand bewildered before Your handiwork— O Lord, in Your omnipotence lies a wonder at every moment.”
معنی
تیرے کاموں کو دیکھ کر میں حیران کیوں نہ رہوں—اے رب، تیری قدرت میں ہر لمحہ ایک تماشا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر کائنات کے ذرے ذرے میں چھپے کرشمے پر حیرت سے بھر جاتا ہے، اور کہتا ہے کہ جب تیری ہر کاریگری اتنی عجیب ہے تو میں حیران کیوں نہ رہوں۔ 'ہر آن تماشا' سے مراد یہ ہے کہ خدا کی قدرت کوئی ایک بار کا معجزہ نہیں بلکہ ہر لمحہ ایک نیا نظارہ پیش کرتی رہتی ہے۔ یہ شعر عاجزی اور حیرت کا حسین امتزاج ہے، جہاں انسان اپنی محدود عقل کو رب کی لامحدود صناعی کے سامنے جھکا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
