ہمنے بھیجا تمکو تم کتے ہویان پہونچا نہیں — نظیر اکبرآبادی
“I sent it off to you, yet you declare it never came to hand; That go-between, perhaps, devoured your very soul, dear Mir.”
معنی
میں نے تمہیں بھیج دیا تھا، مگر تم کہتے ہو کہ یہاں پہنچا ہی نہیں؛ شاید اُس کُٹنی نے، اے میر، تمہاری جان ہی کھا لی۔
تشریح
اس شعر میں میر محبت کے اُس پیغام کی بات کرتے ہیں جو بھیجا تو گیا مگر پہنچا نہیں۔ 'کُٹنی' یعنی وہ دَلّالہ یا بچولیا جو عاشقوں کے درمیان پیام پہنچاتی تھی — میر طنز اور شکایت دونوں کے ساتھ کہتے ہیں کہ شاید اُسی نے آپ کا دل اور پیغام دونوں ہڑپ لیے۔ اس میں محبت کی نزاکت اور بچولیوں پر بے اعتباری کی وہ پرانی شکایت جھلکتی ہے، جہاں دل کی بات اکثر راہ ہی میں گم ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
