وقت تو جاتا رہا پر بات باقی رہگئی — نظیر اکبرآبادی

وقت تو جاتا رہا پر بات باقی رہگئی ہی یہ چھوٹی دوستی اب ہمنے جانی آپ کی

“The time has passed away, yet still the matter lingers on; This broken friendship now has taught me who you truly are.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

وقت تو گزرتا چلا گیا، مگر بات باقی رہ گئی؛ اِس ٹوٹی ہوئی دوستی سے اب ہمیں معلوم ہوا کہ آپ اصل میں کیسے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وقت تو گزر گیا مگر ایک بات، ایک کسک دل میں باقی رہ گئی۔ یہ دوستی کا ٹوٹنا ہی تھا جس نے آپ کی اصل پہچان کرا دی—کیونکہ کبھی کبھی جدائی وہ آئینہ بن جاتی ہے جس میں انسان کا سچا چہرہ صاف نظر آتا ہے۔ اسی میں ایک تلخ مگر گہری دانائی چھپی ہے کہ جو سبق قربت نہ سکھا سکی، وہ بچھڑنے نے سکھا دیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.