چھلے غیروں پاس تو وہ خاتم زرائے نگار — نظیر اکبرآبادی
“If rings have passed to strangers' hands, that gem-engraved ring you wore— I too still keep a keepsake of you with me evermore.”
معنی
اگر وہ نقش والی انگوٹھی غیروں کے پاس چلی گئی ہے، تو میرے پاس بھی اب تک آپ کی ایک نشانی باقی ہے۔
تشریح
اس شعر میں عاشق ایک تلخ و شیریں شکایت کر رہا ہے — وہ نقش و نگار والی انگوٹھی جو کبھی محبوب کی نشانی تھی، اب غیروں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے۔ پھر بھی وہ فخر سے کہتا ہے کہ کوئی بات نہیں، میرے پاس بھی اب تک تمہاری ایک نشانی باقی ہے۔ یہاں نشانی محض کوئی چیز نہیں بلکہ دل میں بسی یاد اور وفا ہے — دوسرے چاہے انگوٹھیاں بانٹ لیں، مگر سچی محبت کی امانت تو اسی کے سینے میں سلامت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
