اک لپٹ کشتی کی ہمسے بھی تو کر دیکھو ذرا — نظیر اکبرآبادی

اک لپٹ کشتی کی ہمسے بھی تو کر دیکھو ذرا ہان بھلا ہم بھی تو جانین پہلوانی آپ کی

“Just come and grapple one quick bout of wrestling here with me— Yes, let me also get to know this champion's craft you claim to be.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

ذرا ہم سے بھی کشتی کا ایک داؤ لگا کر دیکھو، تاکہ ہم بھی تمہاری پہلوانی کو جان اور پرکھ سکیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے مغرور محبوب کو ایک شوخ اور دلکش چیلنج دے رہا ہے — آؤ، ایک داؤ کشتی کا مجھ سے بھی لڑ کر دیکھو۔ یہاں کشتی دراصل کھیل نہیں بلکہ عشق کی وہ نوک جھونک ہے جس میں پکڑ اور آغوش کا میٹھا بہانہ چھپا ہے۔ محبوب اپنے حسن اور اداؤں کی پہلوانی پر نازاں ہے، تو عاشق کہتا ہے کہ ذرا وہ داؤ مجھ پر بھی آزماؤ تاکہ میں بھی تمہارے فن کا لطف اٹھا سکوں۔ اس شرارت بھرے انداز میں عشق کی گرمی اور قربت کی تڑپ صاف جھلکتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.