ہو تو کیا ہین دل فرشتے کا بھی کافر چھین لے — نظیر اکبرآبادی

ہو تو کیا ہین دل فرشتے کا بھی کافر چھین لے ٹک چھمک کھل کے پھر انگیا پہ چھاتی آپ کی

“Even an angel's heart—what of it?—the infidel would seize it whole; Sway but a little, let it show, your bosom above the bodice, open to the soul.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

فرشتے کا دل بھی ہو تو کیا، وہ کافر اُسے بھی چھین لے؛ جب آپ ذرا اِٹھلا کر کھل جائیں اور انگیا پر آپ کی چھاتی جھلک اُٹھے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر محبوب کی دلکشی کو اس حد تک بڑھا کر پیش کرتا ہے کہ کہتا ہے—فرشتے کا دل بھی کیا شے ہے، وہ کافر یعنی محبوب تو اسے بھی چھین لے! جب وہ ذرا سا اٹھلا کر، انگیا کے اوپر اپنی چھاتی جھلکا دے تو پاک سے پاک دل بھی بے قابو ہو جائے۔ یہاں 'کافر' محبوب کے لیے پیار بھرا الاہنا ہے—اتنا حسین کہ ایمان اور پاکیزگی تک ڈگمگا جائے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.