کیا تعجب ہو اگر دیکھے تو مردہ جی اُٹھے — نظیر اکبرآبادی
“What wonder would it be if the dead should rise to life again— that fold of your waistband's curve, that swell upon your gentle belly.”
معنی
اس میں کیا تعجب کہ مُردہ بھی جی اُٹھے، جب تمہاری ناف کے نیچے پیٹ پر کمربند کی وہ شکن اور اُبھار نظر آئے۔
تشریح
یہ شعر جسمانی حُسن کی اُس کشش کو بیان کرتا ہے جو موت کو بھی شکست دے دے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس میں کیا تعجب اگر مُردہ بھی جی اُٹھے، جب وہ محبوب کے نیفے کی سلوٹ اور پیٹ کی نازک گولائی دیکھ لے۔ یہاں حُسن کی طاقت کو اتنا زبردست دکھایا گیا ہے کہ وہ زندگی بخشنے والی بن جاتی ہے — عشق اور جسمانی کشش کو معجزے کے درجے تک پہنچا دیا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
