ایک عالم کو بکن کیطرح سر پھوڑیگا اب — نظیر اکبرآبادی
“A whole world will now, like Kohkan, dash its head against the stone, If this sweetness of your tongue continues to be so.”
معنی
اگر آپ کی زبان کی یہ شیرینی اسی طرح قائم رہی، تو اب ساری دنیا فرہاد کی طرح پتھر سے اپنا سر پھوڑ لے گی۔
تشریح
شاعر محبوب کی شیریں زبان کو فرہاد کے عشق سے جوڑتا ہے؛ جیسے کوہکن شیریں کی محبت میں پہاڑ پر سر پٹخ کر مٹ گیا، ویسے ہی اگر یہ مٹھاس یونہی رہی تو ساری دنیا دیوانہ ہو کر پتھر پر سر پھوڑے گی۔ لفظ 'شیریں' میں خوبصورت رعایت ہے—یہ مٹھاس بھی ہے اور شیریں و فرہاد کی داستان بھی، یعنی تمہاری میٹھی باتیں ہر کسی کو عاشق بنا دینے والی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
