کیا عجب صورت رقیب روسیہ کی دیکھکر — نظیر اکبرآبادی
“What wonder if, beholding the black-faced rival's loathsome face, you melted into water, water, from the dread that gripped your heart.”
معنی
کیا عجب کہ اُس کالے مُنہ والے رقیب کی صورت دیکھ کر، خوف کے مارے آپ کی حالت پانی پانی ہو گئی ہو۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے محبوب سے طنزیہ اور شوخ انداز میں بات کر رہا ہے۔ 'روسیہ' یعنی کالے منہ والا رقیب — وہ حریف جس کی صورت اتنی بھدی اور مکروہ ہے کہ اسے دیکھ کر محبوب خوف سے پانی پانی ہو گیا۔ 'پانی پانی ہونا' ایک خوبصورت محاورہ ہے جس کے معنی شرمندہ ہونا بھی ہیں اور گھل جانا بھی — شاعر دونوں مفہوموں سے کھیلتے ہوئے اپنی حسد بھری شوخی اور ہلکے پھلکے طنز کو ظاہر کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
