“How can I swiftly paint such grace? For then the Rain King came, Trees and all bowed down with joy, and spoke his blessed name.”
میں ایسی خوبصورتی کا جلدی سے کیسے بیان کروں؟ پھر بارش کے بادشاہ تشریف لائے اور درختوں وغیرہ نے خوشی سے جھک کر مبارک الفاظ ادا کیے۔
یہ خوبصورت شعر بارش کی آمد پر فطرت کی خوشی اور عقیدت کو بیان کرتا ہے، جسے 'میگھ راجا' (بارش کے بادشاہ) کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کسی ایسی حسین خوبصورتی سے اتنا مگن ہے کہ اسے بیان نہیں کر پاتا، مگر پھر زندگی بخش بارش کا نزول ہوتا ہے۔ یہ درختوں کے شکر گزاری سے جھکنے اور دعائیہ الفاظ ادا کرنے کا ایک دلکش منظر ہے، جو بارش کی زندگی دینے والی طاقت کا جشن منا رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
