کچھ قیس اور میں ہی نہیں سب کے سب موئے — مومن خاں مومن

کچھ قیس اور میں ہی نہیں سب کے سب موئے اچھا تو درد عشق کا بیمار کم ہوا

“Not only Qais, but one and all of us have died— well then, the sufferers of love's disease are fewer now.”

— مومن خاں مومن

معنی

صرف قیس اور میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کے سب مر گئے—تو اچھا ہوا، درد عشق کے بیمار اب کم ہو گئے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک تلخ طنز کے ساتھ بات کرتا ہے۔ قیس یعنی مجنوں، عشق کی علامت، اور خود شاعر — سب کے سب عشق کی بیماری میں مٹ گئے۔ آخری مصرع کا لہجہ ایسا ہے جیسے کوئی بے پروا آواز کہہ رہی ہو کہ 'اچھا ہوا، اب درد عشق کے مریض کم ہو گئے' — گویا عشق کوئی وبا ہو اور دنیا بے حسی سے اس کے مرنے والوں کو گنتی ہو۔ اسی طنز میں عشق کا سانحہ اور زمانے کی بے دردی دونوں چھپے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.