ذکر بتان سی پہلی سی نفرت نہیں رہی — مومن خاں مومن
“For speaking of the idols, I no longer feel that old disdain— at last the pious believer's unbelief has waned a little.”
معنی
بتوں کے ذکر سے اب پہلے جیسی نفرت نہیں رہی؛ کچھ اب تو دین دار مومن کا کفر کم ہو گیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک دلچسپ الٹ پھیر کرتا ہے: بتوں یعنی حسن و محبوب کے ذکر پر اب وہ پہلی سی نفرت محسوس نہیں کرتا، اور اسی نرمی کو وہ یوں بیان کرتا ہے کہ دیندار مومن کا کفر کچھ کم ہو گیا۔ گہرائی یہ ہے کہ سخت اور بے محبت زاہدی کو ہی اصل کفر دکھایا گیا ہے، جبکہ دل کا حسن و عشق کی طرف کھلنا اصل ایمان کی طرف لوٹنا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
