کیا مجھ میں مر ہی لینی کی طاقت نہیں رہی — مومن خاں مومن

کیا مجھ میں مر ہی لینی کی طاقت نہیں رہی کیوں شور نالہائے عزا بار کم ہوا

“Is it that even the strength to die has left me now? Why has the clamor of my grief-laden laments grown so faint?”

— مومن خاں مومن

معنی

کیا اب مجھ میں مر جانے تک کی طاقت بھی نہیں رہی؟ میرے غم بھرے نالوں کا شور کیوں اتنا کم ہو گیا ہے؟

تشریح

اس شعر میں شاعر درد کی اُس آخری حد پر کھڑا ہے جہاں اب مرنے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی۔ ذرا سوچیے، انسان اتنا تھک جائے کہ اُس کی آہیں اور نالے بھی مدھم پڑ جائیں، گویا رونے کا دم تک نہ رہا ہو۔ یہاں 'شور نالہائے عزا بار' یعنی ماتم بھری آہوں کا شور کم ہونا اِس بات کی علامت ہے کہ غم اب اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ وہ آواز میں نہیں، خاموشی میں ڈھل گیا ہے۔ یہی اِس شعر کی سب سے دردناک بات ہے کہ اصل دُکھ وہی ہے جو چیخنا بھی بھول جائے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.