نا کامیوں کا پیش بیجد کا کیا علاج — مومن خاں مومن
“What cure is there for the frustrated, forever unfulfilled— for when a kiss was granted, the thirst for the beloved's lips grew less.”
معنی
ناکامیوں اور مسلسل بے اطمینانی کا بھلا کیا علاج ہے—کیونکہ جب ایک بوسہ مل گیا تو محبوب کے لبوں کا شوق ہی کم ہو گیا۔
تشریح
اس شعر میں ایک تلخ سی طنز چھپی ہے — جو لوگ ہمیشہ ناکام اور نامراد رہتے ہیں، اُن کا کوئی علاج ہی نہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جیسے ہی بوسہ مل گیا، ویسے ہی محبوب کے لبوں کی تڑپ کچھ کم ہو گئی۔ یہاں یہ حقیقت کھلتی ہے کہ خواہش کا پورا ہونا ہی خواہش کو مٹا دیتا ہے، اور اصل لطف تو انتظار اور آرزو میں تھا، پانے میں نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
