آئی غزال چشم سدا میری دام میں — مومن خاں مومن
“The gazelle-eyed ones kept falling always into my snare— I remained the hunter, rarely was I the captured prey.”
معنی
میرے دام میں ہمیشہ غزال جیسی آنکھوں والی حسینائیں پھنستی رہیں؛ میں ہی شکاری رہا، کبھی کبھار ہی میں کسی کا گرفتار ہوا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر عشق کے روایتی رشتے کو دلچسپ انداز میں الٹ دیتا ہے۔ عام طور پر محبوب شکاری اور عاشق شکار ہوتا ہے، مگر یہاں شاعر فخر سے کہتا ہے کہ ہرن جیسی آنکھوں والے حسین خود اُس کے جال میں آ گرے۔ 'غزال چشم' معصوم اور دلکش نگاہوں کی علامت ہے اور 'دام' اُس کی اپنی کشش اور دلربائی کا استعارہ۔ اس ناز بھرے لہجے میں اپنے حسنِ اثر اور دل جیتنے کی طاقت پر ایک خوبصورت فخر چھپا ہوا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
