کانٹا سا کہٹکتا ہی کلیجی مین نسیم سحر — مومن خاں مومن

کانٹا سا کہٹکتا ہی کلیجی مین نسیم سحر یہہ خار نہین دل سی گل اندام نکلتا

“Like a thorn it pricks within my heart, the morning breeze at dawn— this is no thorn, but a rose-limbed beloved departing from my heart.”

— مومن خاں مومن

معنی

صبح کی ہوا کانٹے کی طرح کلیجے میں کھٹکتی ہے؛ یہ کانٹا نہیں، بلکہ کوئی گل اندام محبوب دل سے نکل رہا ہے۔

تشریح

شاعر یہاں ایک نازک سی تکلیف بیان کر رہا ہے—صبح کی ٹھنڈی ہوا، جو عموماً راحت دیتی ہے، اس کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔ مگر دوسرے مصرعے میں وہ راز کھولتا ہے کہ یہ چبھن کسی کانٹے کی نہیں، بلکہ اس پھول جیسے نازک بدن محبوب کے دل سے نکل جانے کی ہے۔ یعنی جدائی کا درد اتنا گہرا ہے کہ اب صبح کی ہوا بھی اس بچھڑنے کی یاد دلا کر زخم تازہ کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.